Monday, October 10, 2022

اِک اور زندگی

اِک اور زندگی 
راہل ۔ میں جب چھوٹا تھا میں میرے نانا نانی کے پاس رہتا تھا میں ہی نہیں میری ماں اور میری بہن میرا ایک چھوٹا بھائی بھی تھے میں اکثر ماموں کے بچّو کو کو سنتا تھا ابّو میرے لیے چیز لے آئیگا تو میں اپنی ما سے بولتا تھا کی میرے ابّو کب لائینگے میرے ابّو کہاں ہیں میری ماں بولتی تھی کہ بیٹا تیرے ابّو بہت دور حینمیں بل دی ہوں لے کے آئینگے تو میں چپ ہو جاتا میری بہن بڑی تھی اسکو سب پتہ تھا میں جب چھوٹا تھا میرا چھوٹا بھائی رازق بہت چھوٹا تھا وہ امی کے گود میں رہتا تھا ہم لوگ بہت خوشی خوشی زندگی گزارتے تھے جب میں چھوٹا تھا ماموں جان اور نانا جان میرے لیے بہت چیز لاتے تھے جب اُنکے بچّے کچھ بولے تو میرے لیے بھی حاضر ہو جاتا بس فرق اتنا سا تھا کی اُنکے ابّو لاتے تھے اور میرے ماموں میں جب بڑا ہوا تو سب اپنے ابّو کی بات کریں میں صرف سنتا تھا میں بھی سوچتا تھا کی کاش میرے ابّو کے بارے میں بھی معلوم ہو لیکِن امی نہیں بتاتی تھی ہاں جب بڑا ہوا تو ایک بار ابّو ائے بہت ساری چیز لے ائے بہت گھماتے تھے سبکے وہاں لے کے جاتے تھے پھر ابّو گئے تو کی سال تک کچھ پتہ نہیں میری بہن بڑی ہو چکی تھی وہ سمجھدار ہو گئی تھی وہ مجھے بولتی تھی تم امی کے سب کچھ ہو اور کوئی نہیں رازق بہت چھوٹا ہے اسکو تمھیں سنبھالنا ہے میں کچھ نہیں سمجھتا تھا لیکن کافی وقت بیت گیا تب میں باہر کے لوگوں سے سنو تمہارے ابّو جیل میں ہیں میں کچھ نہیں سمجھتا تھا یہ بات امّی سے پوچھوں امی بولی نہیں بیٹا ایسا کچھ نہیں میں اپنے ابّو کی تلاش میں رہوں لیکن کچھ پتہ نہیں چلے میں جب تھوڑا بڑا ہوا تو رازق روتا تھا ابّو کو بلا بلا کر لیکِن رو کے چپ ہو جائے میں سنتا تھا بہت تکلیف ہوتی تھی میں و تکلیف کو اپنے سینے میں ضبط کرکے رکھتا تھا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہونے دیتا تھا روتا تھا چھپ_چُپ کے لکین درد اپنی ماں کو بھی نہیں بتاتا تھا کیوں کی میری ماں بھی خوب روتی نمازوں میں اپنی ماں کو ہر نمازوں میں روتے دیکھتا تھا تو مجھے دیکھا نہیں گیا میں آخر اپنے ابّو کی تلاش میں لگ گیا کافی سال گزر گیا میرے ننيهال کا اک لڑکا بھاگتے ہوئے آیا بولا راہل تیرے ابّو کا فون آیا ہے میں بہت خوش ہو کر بات کیا لیکن بہت کم منٹ کی بات ہوئی سبکے بارے میں پوچھے میں بتایا میں بھی سمجھ گیا میرے ابّو بھی ہیں مگر جیل میں جب میں بڑا ہوا تو میں میرے ماموں کے پاس ممبئی گیا تو میرے چچا کو معلوم پڑا راہل آیا ہے وہ سبکے وہاں لیکے گئے ملائے مگر اپنے ابّو سے ملنے میں نا كام ہوا میرا دل لگا رہے کی ایک بار مل لوں ایک طرف ابّو سے ملنے کی چاہت دوسری طرف اپنے ان خونی رشتوں سے ملا جن لوگوں کے بارے میں صرف سنتا تھا مل کے بہت خوشی ہوئی جب نانی کے گھر لوٹا تو مَیں سبکو بتایا میرے چھوٹے بھائی رازق کا بھی دل کرتا ملنے کا اور میری پیاری بہن اندر ہی اندر ہر بات رکھتی تھی وہ کہے نہیں پاتی تھی کُچھ کسی سے لیکِن میں بہت خوش ہوا میں جب 12 بارویں کلاس کا امتحان پاس کیا تو نانی نانا سے زبردستی بول کے ممبئی گیا جسمیں میری ماں کی رضامندی نہیں تھی پھر بھی میں گیا میری ماں کو ہمیشہ فکر لگی رہتی تھی میں ممبئی آنے کے بعد بہت کوششوں کے بعد ابّو سے ملا تو اُنکے چہرے پے تھوڑی سی خوشی دیکھا چند منٹ کی ملاقات ہوئی میں واپس گھر گیا تو میرے ابّو سے کسی نہ کسی ذریعہ سے بات ہو جاتی میرے ابّو نے میرے اُوپر ذمےداری دالی بولے بیٹا میں غلطی کیا تو ہوں اُسکی سزا مل رہی جو تم لوگ سے دور ہوں پر میں تم لوگ کے بنا نہیں رہے سکتا مُجھے تو ہی نکال سکتا اسی دوران میری بہن کی شادی تئے ہوگئی تھی وہ اور تڑپ رہے تھے میں پوری محنت کیا اُنکو چھڑانے کے چکّر میں پڑھائ خراب کیا بہن کی شادی قریب آتی گئی اور میری محنت بھی چلتی ہے لیکِن شادی تین ۳ دن بچا تھا وکیل نے بولا ضمانت پانچ ۵ دن بعد ہوگی میں بہت پریشان اور مایوس ہوکر واپس گھر چلا گیا بہن کی شادی کے ایک دن پہلے گھر پہنچا بہن سے بولا کی دو دن بعد ہوگی زمانت سب بہت مایوس ہوۓ لیکِن دو دن بعد وکیل کا فون آیا میں بنا ٹکیٹ کے گھر سے نکل گیا ٹرین کے باتھرُوم کے پاس بیٹھ کر بہُت پریشانی میں پہنچا جیل پے بس ابّو کے آنے کا انتظار بہت بیرہمی سے کررہا تھا گھڑی بہُت لمبی ہو گئی تھی منٹ گھنٹوں میں بدل گیا تھا ۳ تین گھنٹے بعد جب ابّو ائے آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے بھیگ گئی ابّو کو گاؤں لیکے گیا ۳ دن رکے لوگ مِلنے آتے تھے تین دن بعد واپس ممبئی آگئے کچھ دن صحیح سے رہتے تھے بہُت خوشی ہوتی تھی اُسکے چند دن بعد میری ساری محنت پر پانی پھیر کے میرے سارے سپنوں کو دفنا کے واپس اُسی زندگی میں چلے گئے اور ابھی بھی جیل ہی میں میں بھی اپنی زندگی پھر پریشانیاں سے باہر گئی اور میں اپنے دل پے پتھر رکھ کے نئی زندگی شروع کیا میری ماں بہت سمجھاتی ھیں کی اب تم اپنی مرضی چلا چکے اب تمکو ہی سب کرنا ہے فیصلہ تمہارے پاس تمھیں کیا کرنا میری بہن کی شادی ہو گئی میرا ایک چھوٹا بھائی ہے میں اُسکے لیے اور میری ماں کے قدموں میں اپنی زند گی گزار رہا ہُوں انشاءاللہ تعالٰی میری ماں کی دعا اللہ تعالیٰ قبول کیے تو میری ماں کا ایک آشیاں بھی ہو جائیگا ہم لوگ کی زندگی میں ہریالی واپس اجائیگی 

No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے