پتا ہے میں نے اپنی آخری حد کو آزمایا تھا ، میں نے وہاں امید میں لگائی تھیں جہاں نہ تو میری التجا کا مان رکھا گیا تھا نہ ہی اپنے کیے وعدے کا بھرم ۔ لوگ مکر جاتے ہیں، اپنے کسے الفاظ سے کس طرح مکر جاتے ہیں ۔ پھر میں نے اللہ سے کہا یا اللہ! کیا میں آپ کا بندا نہیں ؟
وہ کیوں دور ہو گئ مجھ سے جسے نہیں ہونا تھا ؟
پھر مجھے سمجھ آیا کہ لوگ خود دور نہیں ہوتے ، اللہ انہیں آپ سے دور کر دیتا ہے ، وہ اپنے بندے کو کبھی بھی ایسے انسان کے ساتھ رہنے نہیں دیتا جو اس کے لیے تکلیف کا باعث بنے ، اللہ ہمیشہ اپنے بندے کا بھلا چاہتا ہے قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ ہے "اللہ پاک فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کو اتنی تکلیف نہیں دیتا کہ وہ برداشت ہی نہ کر سکے اور میں اپنے بندے پر ظلم نہیں کرتا ،
انسان اپنے آپ پر خود ظلم کرتا ہے" میں نے سوچا کہ یوسف اداس ہو کر تو تم خود پر ظلم کروگے حالانکہ اللہ نے تو دکھا دی اصلیت ، اللہ نے تو بہت پہلے ہی تمہارے اشارے دینا شروع کر دیے تھے لیکن ہم انسان کہاں سمجھتے ہیں ۔ اب بھلا میں کیوں روؤں یا اداس ہوں ، حالانکہ میں تو یہ جان کر خوش ہو گیا کہ اللہ نے جو پوری کائنات کا مالک ہے اس نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے جو کہ کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا
No comments:
Post a Comment