کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف
ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
No comments:
Post a Comment