محسوس کرتے ھیں۔
Thursday, December 29, 2022
پچھتاوا
ہم لوگ ایسے شخص کے پیچھے اپنی زندگی." برباد کر دیتے ہیں جس کو ایک لمحہ بھی پچھتاوا نہیں ہوتا کہ اس کی وجہ سے کوئی ذہنی مریض بن گیا وہ ہنسنا بھول گیا وہ محفلوں کی رونق رہنے والا اب تنہائیاں ڈھونڈتا پھرتا ہے اگر وہ شخص جس نے برباد کیا ہے وہ یہ سب سنے تو ایک زوردار قہقہہ لگا کر کہے گا کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ مجھ سے محبت کرو خود کے لیے جینا سیکھے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
-
میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر "خاموشی" لکھ آیا ہوں وہ خاموشی جو ساعتوں کے پردے میں زمین و آسمان کی پرتوں میں روح کی گہرائیوں غاروں...
-
میرے چہرے سے نہ اندازہ لگانا کہ یہ عمر مجھ پہ بیتی ہے بہت، میں نے گزاری کم ہے! -
-
باپ کی پگڑی بچانے کےلیے نکاح کے لیے تیار ہو گئ... نکاح کا دن تھا اُسے کال کی تم بھی نکاح میں آو گے منع کر دیا کہ نہیں آوں گا میرے بہت اسرار ...

No comments:
Post a Comment