Thursday, December 29, 2022

پچھتاوا

ہم لوگ ایسے شخص کے پیچھے اپنی زندگی."  برباد کر دیتے ہیں جس کو ایک لمحہ بھی پچھتاوا نہیں ہوتا کہ اس کی وجہ سے کوئی ذہنی مریض بن گیا وہ ہنسنا بھول گیا وہ محفلوں کی رونق رہنے والا اب تنہائیاں ڈھونڈتا پھرتا ہے اگر وہ شخص جس نے برباد کیا ہے وہ یہ سب سنے تو ایک زوردار قہقہہ لگا کر کہے گا کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ مجھ سے محبت کرو خود کے لیے جینا سیکھے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا

محسوس کرتے ھیں۔  



No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے