Saturday, June 19, 2021

گاؤں میں سب کچھ اپنا تھا

گاؤں میں سب کچھ اپنا تھا محترمہ🥀
شہر میں تیرے لیے کرائیدار ہوئے بیٹھے ہیں

No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے