Saturday, June 19, 2021

دوست

زہر کے ذائقے بہت ہیں دوست
ہجر کے حادثے بہت ہیں دوست

رقص کرنا کوئی گناہ نہیں
عشق کے قاعدے بہت ہیں دوست

وقت قاتل کا ہاتھ لگتا ہے
موت کے زائچے بہت ہیں دوست
دیکھنا اسکو پر نہیں ملنا
درمیاں فاصلے بہت ہیں دوست

بے حسی کے چراغ جلتے ہیں
درد کے قافیے بہت ہیں دوست

درد دل اس کو بس سنانا ہے
رب سے اب رابطے بہت ہیں دوست


No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے