زہر کے ذائقے بہت ہیں دوست
ہجر کے حادثے بہت ہیں دوست
رقص کرنا کوئی گناہ نہیں
عشق کے قاعدے بہت ہیں دوست
وقت قاتل کا ہاتھ لگتا ہے
موت کے زائچے بہت ہیں دوست
دیکھنا اسکو پر نہیں ملنا
درمیاں فاصلے بہت ہیں دوست
بے حسی کے چراغ جلتے ہیں
درد کے قافیے بہت ہیں دوست
درد دل اس کو بس سنانا ہے
رب سے اب رابطے بہت ہیں دوست
No comments:
Post a Comment