Friday, March 29, 2024

سچی تحریر‏


‏بہت سے لوگ مجھے میسج کرتے ہیں کہ آپ وہ لکھتے ہیں جو ہم سوچتے ہیں ہم پہ بیتی ہوتی ہے یا بیت رہی ہوتی ہے دراصل میں وہی لکھتا ہوں جو میرے اوپر بیت رہی ہوتی ہے تجربہ اور سوچ ہے جو کہ فطرت کے عین مطابِق ہے ہم میں سے بہت سے لوگ اس حال میں سے گزر رہے ہوتے ہیں اس لئے سب خود کو میری تحریر سے جوڑ لیتے ہیں میں نے جب جب لوگوں سے اُمیدیں لگائیں، میری اُمیدوں کو مایوسی کے کیڑے بن کے چاٹ لیا۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سمجھ بوجھ کے سنیٹائیزر  سے اُس مایوسی کے کیڑوں  کا سِرے سے ہی خاتمہ کر ڈالوں گا ‏مجھے زندگی میں کبھی کوئی رشتہ ایسا نہیں ملا جو میری مرضی سے میرے ساتھ چلے میرے دکھ کو سمجھے  ہمشیہ مجھے وہ رشتے ملے جو میرے پہ حکومت کرتے اور میں ہمشیہ کی طرح غلام بننے کا عادی
 اللہ نے میرے اندر یہ حساس اور محبت کا جزبہ کیوں بھر دیا؟؟
یہاں پھر مجھے بےفیض دنیا سے ہی ملتا کبھی بھی میں چاہتا ہوں مجھے الفاظ کے بغیر سمجھا جائے __ 
میری خاموشی محسوس کی جائے میری ہنسی کے  اندر کے غم کو اور میری آنکھ کی نمی دیکھ کر میرے دل کا حال جانا جائے ہاں میں چاہتا ہوں مجھ سے ایسی محبت کی جائے کیونکہ میں واجب المحبت ہونا چاہتا ہوں 
‏زید میرا دوست اک واحد بازو جو ہر وقت ہمارے گِرد لپٹ کر ہمیں گلے سے لگا لیتا تب یہ احساس ہوتا وہی سب کچھ  ہے جب ہم کمزور پڑ چُکے ہوتے اور سلام ہے ان  کی آنکھوں کو جو اُس وقت بھی ہم کو چاہے جب دُنیا کی بدصورتیاں ہم پر چھا چُکی ہوں اور عظیم ہے زید کا دل جو تب بھی ہم سے محبت کرتا رہے جب ساری دُنیا کی زمین تم پر تنگ ہو چکی ہو

✍یوسف عظیم خان 



1 comment:

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے