Friday, March 29, 2024

عشق ‏کرتا ہوں

وہ جانتی تھی میں اس سے محبت نہیں عشق کرتا ہوں،۔۔ بے پناہ عشق،
وہ جانتی تھی وہ میری کمزوری بن چکی ہے،
کبھی کوئی بات نہیں بھی ہوتی تھی تو وہ لڑ کر خفا ہوجاتی تھی، تو پاگل سا ہو جاتا تھا میں۔
بات بات پر آنسو ٹوٹ کر گرنے لگتے تھے،
اس کی ناراضگی میرا اس دنیا سے دل اچاٹ کر دیتی تھی،
ہر چیز سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس نے میری زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے درد سے بھر دیا،
نہ جیتا ہوں نہ مرتا ہوں، بس خالی ذہن کے ساتھ زندگی گزارے چلے جا رہا ہوں، اس کی محبت کو میں اپنی مضبوط پناہ گاہ سمجھتا رہا، لیکن اس نے سب کچھ چھین لیا مجھ سے، خوشی کا ہر احساس ہر وجہ، اور میری زندگی کو ہمیشہ کے لیئے اندھیروں  کے حوالے کر دیا۔
یوسف عظیم خان

No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے