Saturday, July 3, 2021

بد دعا سے ڈر نہیں لگتا ؟

 بد دعا سے ڈر نہیں لگتا ؟؟
تم کیسے ہر کسی کے ساتھ محبت کے دعوے دار بن جاتی ہو ؟؟ " میں نے اپنی زندگی کے کئی سال تم جیسی لڑکی کی چاہ میں برباد کیا " مجھے تم سے گلہ تھا کہ تم پیار نہیں دے سکتی پر اب نہیں ہے. جانتی ہو کیوں؟؟ کیوں کہ انسان دوسروں کو وہی چیز عطا کرتا ہے جو اسکے پاس موجود ہو " جو تمہاری خود کے پاس موجود نہ تھی مجھے کہاں سے دیتی تم ؟
مجھ جیسی انا پرست لڑکے کے لیے یہی دکھ کافی ہے کہ میں نے ایک ایسے انسان کے لیے اپنی زندگی کے کئی سال برباد کیۓ جو میرے ایک لمحے کے قابل نہ تھا "

 کبھی کبھی کچھ لوگوں کو اتنی شدت سے بد دعائیں دینے کو دل کرتا ہے کہ صرف بد دعائیں سن کے ہی ان کے دل کانپ جائیں مگر پھر بے بسی تو دیکھو ہم چاہ کے بھی بد دعا نہیں دے پاتے  کبھی کبھی یے سوچ کر کی تمھاری امی کے اور بھائی کےکتنے احسانات ہیں اور تمھارے بھی، شایدتمہیں نہیں یاد ہو مرے زخم پے مرہم تمہیں لگائ تہی جب پہلی بار تمنے دل سے چاہا تھا کاش اسی طرح مرے دل کے گھاؤ پر مرہم لگا دو اس گھاؤ کو صرف تم علاج سب باتیں یاد کرکے کتنا دکھی ہوتا ہوں ,اس سے بھی زیادہ بے بسی کہ دل فقط یہی کرتا ہے کہ کہیں بھاگ جائیں یہ جہاں چھوڑ کے جہاں ماضی کی کوئی یاد نہ ہو ,جہاں ہمیں بھول جائے کہ کبھی ہم نے کسی پہ یقین کیا تھا ..جہاں انسان کھل کے اپنی رائیگاں حسرتوں کا سوگ منا سکے ..کاش ..زندگی میں واقعی کوئی ڈلیٹ بٹن ہوتا ,کوئی ریموور جہاں سے ہم ہر تکلیف دے یاد کو ڈلیٹ کر سکتے ,جہاں ہم اپنی ماضی میں کی گئی ہر غلطی کو مٹا سکتے...
کاش مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ جو ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا مگر کاش زندگی کے ہر مقام پہ اللہ کو پہلی ترجیح بنایا ہوتا تو زندگی کتنی خوبصورت ہوتی ناں ..چلو خوبصورت نہ بھی ہوتی مگر پچھتاوا تو نہ ہوتا..
مگر نہیں انسان ہمیشہ ٹھوکر کھا کہ ہی سمجھتا ہے ,ٹوٹنے کے بعد ہی جڑتا ہے ..شاید یہ بھی غنیمت ہے..اور یہ جڑنا بھی کنتا خوبصورت ہے مگر جڑنے میں وقت تو لگتا ہے تب تک دل یونہی مرتا رہتا ہے یونہی جلتا رہتا ہے مگر پھر سنا ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ دل بے نیاز کر دیئے جاتے ہیں اور میں اس وقت کا انتظار کر رہا ہوں ..


1 comment:

  1. ایسے نحیف شخص کی کی طاقت سے خوف کھا
    جو اپنے انتقام کو اللہ پہ چھوڑ دے

    رحمان فارسؔ

    ReplyDelete

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے