کچھ جنگیں یقین کی ہوتی ہیں اگر درد کی لہر سے ٹکرا بھی جاؤ تب بھی صبر کا پلڑا بھاری رکھنا، جسے تم بے بسی کہتے ہو وہی صبر کی وہ حد ہے جہاں فیصلے تمام ہوتے ہیں۔ کیا پتہ تمہیں آج ہی حساب کتاب کے بعد سرخرو کردیا جائے، عرش پر تمہاری فتح کی تیاری کی جارہی ہو، کیا پتہ جسے تم مستقل شکست سمجھ رہے ہو وہ جیت کی پہلی منزل ہو۔ کیا پتہ تمہاری مستقل دعائیں اسے تمہاری تقدیر بدلنے پر راضی کردیں، وہ دعاؤں کا رخ قبولیت کی طرف موڑدے۔ جب اس نے قرآن میں کہہ دیا مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کرنے والا ہوں، تو بس یہ جنگ تو یقین کی ہے اور وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ 💯♥️
✍️🥀
No comments:
Post a Comment