بعض لڑکے نالائق ہوتے ہیں، ان کو سدھارنے کے لیے لڑکیوں کی ان سے شادیاں کردی جاتی ہیں۔ یہ روش غلط معلوم ہوتی ہے جس کی طرف اشارہ ایک حدیث میں بھی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے مروی ہے:
أَنَّ فَتَاةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ وَأَنَا كَارِهَةٌ، قَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا فَدَعَاهُ، فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ إِلَى الْآبَاءِ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ
ترجمہ: ایک نوجوان لڑکی ان (سیدہ عائشہؓ) کے پاس آئی، اور اس نے کہا:
" میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس کی خست اور کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے کر دی ہے، حالانکہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں۔"
انہوں نے اس سے کہا:
" بیٹھ جاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ لینے دو (پھر اپنا قضیہ آپ کے سامنے پیش کرو)"
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لے آئے تو اس نے آپ کو اپنے معاملے سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کو بلا بھیجا (اور جب وہ آ گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اس (لڑکی) کے اختیار میں دے دیا اس (لڑکی) نے کہا:
"اللہ کے رسول! میرے والد نے جو کچھ کر دیا ہے، میں نے اسے قبول کر لیا (ان کے کئے ہوئے نکاح کو رد نہیں کرتی) لیکن میں نے عورتوں کو یہ سکھانا چاہا کہ ان کے والد کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔"
[سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط، جلد ۳، صفحہ نمبر ۷۳، رقم: ۱۸۷۴،سنن النسائي، جلد ۶، صفحہ نمبر ۱۸۶، رقم:۳۲۸۶، قال الشيخ شعيب الأرنؤوط:إسناده صحيح وقال البوصيري في" مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه"(۲/۱۰۲):هَذَا إِسْنَاد صَحِيح ]
No comments:
Post a Comment