احساسِ خطا ۔۔
انسانوں کی حالت بدل دیتا ۔۔جو شخص ماضی کی
غلطیو ں کاادراک نہیں رکھتا وہ اپنا مستقبل کیسے بہتر کر سکتا ہے ۔اعترافِ خطا ایک نئی زندگی کا آغاز ہے ۔ فرد اود قوم کی زندگی میں اعترافِ خطا ہی اصلاح لا سکتا ہے ۔۔۔یہی نفسیات انسان میں خدا خوفی پیدا کرتی ہے ۔ بے خوفی اور نڈر ہونا بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔
( بے شک اللٰہ کسی قوم کی حالت بہتر نہیں بدلتا ۔ جب تک کہ وہ اُس کو نہ بدل ڈالیں ۔جو اُن کے دل میں ہے)
No comments:
Post a Comment