ہندوستان سمیت دنیا بھر میں آج والد کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کا مقصد بچے کے لیے والد کی محبت اور تربیت میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔
اسلام میں والدین کے حقوق کا تصور بڑا واضح ہے۔ دوسری طرف آج جو ہم مدر اور فادر ڈے منا کر مغربی روایات کو فروغ دے رہے ہیں
۔ امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماؤں اور باپوں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اور باپ اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماؤں اور باپ کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں
فادرز ڈے کو منانے کا آغاز 19 جون 1910 میں واشنگٹن میں ہوا۔ اس کا خیال ایک خاتون سنورا سمارٹ ڈوڈ نے اس وقت پیش کیا جب وہ ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سن رہی تھیں۔
ماں کے مرنے کے بعد سنورا کی پرورش ان کے والد ولیم سمارٹ نے کی تھی اور وہ چاہتی تھیں کہ اپنے والد کو بتاسکیں کہ وہ ان کے لیے کتنے اہم ہیں۔
چونکہ ولیم کی پیدائش جون میں ہوئی تھی، اس لیے سنورا نے 19 جون کو پہلا فادرز ڈے منایا۔
سنہ 1926 میں نیویارک سٹی میں قومی سطح پر ایک فادرز کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ اس دن کو 1956 میں امریکی کانگریس کی قرارداد کے ذریعے باقاعدہ طور پر تسلیم کرلیا گیا۔
سنہ 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے قومی سطح پر فادرز ڈے منانے کے لیے جون کے تیسرے اتوار کا مستقل طور پر تعین کرلیا جس کے بعد سے اس دن کو ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں جون کے تیسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔
بوڑھے ماں باپ بڑا ڈرتے ہیں ان بچوں سے
یہ نئی نسل ہے یار پنکھے سے لٹک جاتی ہے
No comments:
Post a Comment