کبھی کچھ لوگوں کو اتنی شدت سے بد دعائیں دینے کو دل کرتا ہے کہ صرف بد دعائیں سن کے ہی ان کے دل کابپ جائیں مگر پھر بے بسی تو دیکھو ہم چاہ کے بھی بد دعا نہیں دے پاتے ,اس سے بھی زیادہ بے بسی کہ دل فقط یہی کرتا ہے کہ کہیں بھاگ جائیں یہ جہاں چھوڑ کے جہاں ماضی کی کوئی یاد نہ ہو ,جہاں ہمیں بھول جائے کہ کبھی ہم نے کسی پہ یقین کیا تھا ..جہاں انسان کھل کے اپنی رائیگاں حسرتوں کا سوگ منا سکے ..کاش ..زندگی میں واقعی کوئی ڈلیٹ بٹن ہوتا ,کوئی ریموور جہاں سے ہم ہر تکلیف دے یاد کو ڈلیٹ کر سکتے ,جہاں ہم اپنی ماضی میں کی گئی ہر غلطی کو مٹا سکتے...
کاش.......مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ جو ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا مگر کاش زندگی کے ہر مقام پہ اللہ کو پہلی ترجیح بنایا ہوتا تو زندگی کتنی خوبصورت ہوتی ناں ..چلو خوبصورت نہ بھی ہوتی مگر پچھتاوا تو نہ ہوتا..
مگر نہیں انسان ہمیشہ ٹھوکر کھا کہ ہی سمجھتا ہے ,ٹوٹنے کے بعد ہی جڑتا ہے ..شاید یہ بھی غنیمت ہے..اور یہ جڑنا بھی کنتا خوبصورت ہے مگر جڑنے میں وقت تو لگتا ہے تب تک دل یونہی مرتا رہتا ہے یونہی جلتا رہتا ہے مگر پھر سنا ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ دل بے نیاز کر دیئے جاتے ہیں اور میں اس وقت کا انتظار کر رہا ہوں ..
Wednesday, June 2, 2021
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
-
میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر "خاموشی" لکھ آیا ہوں وہ خاموشی جو ساعتوں کے پردے میں زمین و آسمان کی پرتوں میں روح کی گہرائیوں غاروں...
-
میرے چہرے سے نہ اندازہ لگانا کہ یہ عمر مجھ پہ بیتی ہے بہت، میں نے گزاری کم ہے! -
-
باپ کی پگڑی بچانے کےلیے نکاح کے لیے تیار ہو گئ... نکاح کا دن تھا اُسے کال کی تم بھی نکاح میں آو گے منع کر دیا کہ نہیں آوں گا میرے بہت اسرار ...
No comments:
Post a Comment