Thursday, April 22, 2021

دیوانگی اور عرفان میں کیا فرق ہے غالب

دیوانگی اور عرفان میں کیا فرق ہے،
ویسے توکافی فرق ہے ایک پاگل پن ہے اور دوسرا جان لینا ہے۔
 کسی بھی چیز کا جان لینا ہے، ایک میں سب کچھ جان لینا ہے اور ایک میں سب کچھ جان کر فناء ہوجانے کا شوق ہے۔!
آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہی فرق ہے جو ہونے اور نہ ہونے کے درمیاں ہے ۔
اگر میں اپنی بات کروں تو میری نظر میں دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں کیونکہ صاحب کسی بھی شخص کو جب کسی بھی چیز کا عرفان مل جاتا ہے کہ جو جان جاتا ہے اسی کو لوگ دیوانہ کہتے ہیں پاگل کہتے ہیں ۔!
کیونکہ صاحب فانی تو فناء ہی چاہے گا ناں __؟

یوسف خان

✍پتنگے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جل جائے گا ۔ مگر پھر بھی وہ شمع کے پاس جانے سے باز نہیں آتا ۔اس کو تو جل جانا ہوتا ہے ۔بہت کم لوگ ہوتے کہ جو یا جن کو عرفان ملے اور وہ خاموش ہو جائیں،
 کیونکہ شائد وہ خاموش کروا دئیے جاتے ہیں اور جن پر پھر بھی دیوانگی سوار رہے ،وہ بیچارے کبھی پتھر کھاتے ہیں اور کبھی سولی پر لٹکا دئیے جاتے ہیں یا پھر انہیں زہر پینا پڑتا ہے ۔
نہ جانے آپ میری باتوں سے کیا۔مطلب نکال لیتے ہیں،نہیں جانتا ۔
کچھ باتوں کو نہ جاننے میں ہی بھلائی ہے صاحب وگرنہ وحشت ہو یا دیوانگی یا جنوں یا عشق ۔۔باعث شہرت بن جاتا ہے ۔!

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی 
میری وحشت تیری شہرت ہی سہی 

قطع کیجے نہ تعلق ہم سے 
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی 

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی 
اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی 

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے 
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی 

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو 
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی 

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام 
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی 

ہم کہاں ترک وفا کرتے ہیں 
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی 

کچھ تو دے اے فلک نا انصاف 
آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی 

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے 
بے نیازی تیری عادت ہی سہی 

یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ 
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

[ مرزا اسد اللہ خاں غالب ]

No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے