Jhuk kar tere qadmo me gir sakta hai
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
-
میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر "خاموشی" لکھ آیا ہوں وہ خاموشی جو ساعتوں کے پردے میں زمین و آسمان کی پرتوں میں روح کی گہرائیوں غاروں...
-
میرے چہرے سے نہ اندازہ لگانا کہ یہ عمر مجھ پہ بیتی ہے بہت، میں نے گزاری کم ہے! -
-
باپ کی پگڑی بچانے کےلیے نکاح کے لیے تیار ہو گئ... نکاح کا دن تھا اُسے کال کی تم بھی نکاح میں آو گے منع کر دیا کہ نہیں آوں گا میرے بہت اسرار ...
No comments:
Post a Comment