Friday, March 29, 2024

سوانح حیات کی ایک جھلک۔


میری سوانح حیات کی ایک جھلک۔ 

 

 

یوسف عظیم خان


انسان کی زندگی میں کُچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جسے

 بھلانا مُشکِل ہی نہیں نا ممکن ہوتا ہے_ شاید اللّٰہ نے ہمیں اس لیے اس برے وقت میں ڈالا کہ ہم ہمیشہ اُسے یاد کرتے رہیں_ کہتے ہیں کہ جب بندے پر مصیبت آتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اسکے علاوہ اُسکا کوئی سہارا نہیں ہوتا اور جب مصیبتیں ختم ہو جاتی ہے تو وہ اپنے رب کو یاد کرنا بھول جاتا ہے_ یہی تو اس ظالم زمانے کا دستور ہے ہم دو ۲ بھائ اور ایک ۱ پیاری بہن ہے جو ہم لوگ کو بہت پیار دیتی کبھی والد کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیتی میری بہن مجھ سے بڑی ہے جسکی شادی ہو گئی اور بھائی ابھی چھوٹا ہے_ ہم لوگ کی پرورش نانا نانی اور مامو نے کی ہمارے والد زندگی بھر اپنے بڑے بڑے شوق میں لگے رہے اور میرے اُوپر بچپن میں ہی ساری زمیداری میرے سر پے آگئی اور میں اسی کو لیکے بہت سوچ میں پڑ گیا اور ذہنی شکار ہوگیا میرے والد صاحب جو اپنے شوق میں اپنی زندگی گزارتے ہیں میری ماں بھی ٹینشن لے کر اب عمر سے پہلے بوڑھی دکھنے لگی انکےپیروں کے جوڑوں جوڑوں میں تکلیف رہنے لگی میری ماں بھی بہت فکر کرتی ہے ایسے میں میرے ماموں لوگ نے ہماری تعلیم کا اور ہماری پوری زمیداری لی جیسے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کسی اور چیز کی تلاش میں نہیں بلکہ نوکری کی تلاش میں لگ جاتا اور میں نے وہی تلاش کرنے کے لیے میں نے فیصلہ لیا اپنے دادی کے گھر کا جو ممبئی جیسے بڑے شہر میں رہتی ہیں میرے دادا بیمار رہتے تھے اُنکا انتقال ہو گیا اور میری دادی بھی بیمار رہتی ہیں میں چند دن اپنے بڑے ابّو کے ساتھ کام کیا پھر اسکے بعد کہیں کام نہیں مل رہا تھا میںنے سب سے کہے کہے کے تھک چکا تھا ایسے برے وقت میں پھر سے ذہنی شکار ہونے لگا اور شائد ہمیں احساس ہوا کی اپنوں نے بھی اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے ہیں شائد یہ وقت اس لیے آیا کی ہیں اپنوں اور غیروں کی پہچان ہو جائے وقت ایسا چل رہا کی ہم نے اپنی ہی قسمت کو کوسنا شروع کردیا جن پر باپ کا سہارا  نہیں ہوتا اُنکا ہمدرد بھی کوئی نہیں ہوتا   لیکن ایسا لگا کہ شاید یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہے حالات ابھی بہتر تو نہیں ہیں پھر بھی ایک آخری اُمّید بچی ہے جو میرے ایک چچا ہیں جو مجھے بہت مانتے ہیں کبھی کسی ضرورت کے سامان کے لیے منا نہیں کیے  میں اُنہیں کے پاس دادی کے گھر پے رہتا ہوں  اُنسےبولا وہ نوکری کی تلاش میں دن رات لگے ہوئے ہیں شاید انکی مدد مل سکے میری خواہش تھی ایک اچّھا وکیل بننے کی اور اسمیں کافی سال لگتا اگر میں پڑھائی کرتا تو میں اپنے بھائی اور ماں کو کیسے لیکے چلتا تبھی ارادہ کرلیا اپنی ساری خواہشا ت کو مار کے  ارادہ کر لیا کی میں کوئی اچّھی نوکری کرونگا میں وکیل کی تعلیم نہیں لے پایا تو اپنے چھوٹے بھائی کو کوئی آلہ تعلیم دینے کا سوچا ہوں میری ماں کی خواہش ہے میرے بچّے اور بچّے کی طرح اچّھی تعلیم حاصل کریں جس میں میںنے گریجویٹ کیا اور چھوٹے بھائی کو اچّھی تعلیم دوں اور اللہ کا شکر ہے ہم نے تعلیم حاصل کر لیا اور اپنے بھائ کو بھی انشاءاللہ اچّھی تعلیم دونگا


میں لوگوں کو صرف یہ بات کہنا چاہتا ہوں کی چاہے جتنی  بھی مصیبت آئے اپنا حوصلا بلند رکھیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اور خواب ہمیشہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیکھیں اور پھر دیکھیں کامیابی کیسے آپکا کا قدم چومتی ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا


 فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے        

  وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے




No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے