Thursday, August 12, 2021

اسے کہنا مجھے جدائیوں کے آداب نہیں آتے‏

اسے کہنا مجھے جدائیوں کے آداب نہیں آتے
کب اشک بہانے ہیں زمانے کے سامنے
کب سوگوار حسن سے عاشق بنانے ہیں
تماشہ کب دکھانا ہے ؟
خود کو کتنا رلانا  ؟
دنیا کو کیا بتانا ہے؟
سچ میں جھوٹ ملانا ہے؟
غیر مذہبی سے عشق کر بیٹھی ہمکو یوں ہی گھما بیٹھی
کوئی سوال کرلے، وجہ پوچھے تو کیا کہوں گا؟
لوگ کہینگے تیری محبوبہ کے کیا فسانے ہیں 
اسے کہنا تیری برائیوں کے حساب نہیں آتے
۔۔۔۔
یہ بھی کہنا بھری جوانی میں تہمتوں کے بوجھ اٹھائے نہیں جاتے
کہنا بچپن کے دوستوں کو عشق کے غم سنائے نہیں جاتے !
قہقہے آنکھوں کے قبرستان میں دفن کرکے
کوئی شہنائیوں کی فاتحہ پڑھے تو کیسے ؟

کچھ امیدوں کے سہارے  گلی میں بیٹھ جاتے ہیں
اسے کہنا غموں کو دوستوں میں بانٹ آتے ہیں

گریبان تھامنا پر دیکھنا کہ چاک نہ ہو جائے ۔۔
کچھ دور ہی رہنا کہیں وہ بے باک نہ ہو جائے _
اسے کہنا وصل کے وعدے اب حقیقت دیکھ کر اندھے ہو چکے ہیں ۔
اسے کہنا کہ وہ اندھی اولاد کو کیسے پالے تنہا؟
ڈگریاں تو شاید کہیں رکھ کر بھول چکا ہوں۔۔
سنو، وہ ڈگریاں بس لیا تھا تمھارے بہانے
تُو ساتھ ہوتی کُچھ آج اور ڈگریاں بنا لیا ہوتا تمہارے لئے ؟؟؟

اگر وہ یاد آتی ہے  نگاہیں پھیر کر دل کو بھگو لیتے ہیں 

اسے کہنا ایک محبّت کہ خاطر آخرت خراب نہ کرنا ۔۔

اسے سنانا وہ دل کی آواز تڑپتی ہوئی نگاوہوں کی 
اسے کہنا دنیا بڑی فرصت سے اسے رسوا کرنے میں مصروف ہے ۔
کچھ اپنوں کے کچھ گیروں کے ٹھوکر ہی ٹھوکر کھانے ہیں
دیکھنا کہیں رو نہ دو تم میرے قصے کے دوران،
اجنبیوں کو دلاسہ دینے میں وہ خاصہ معروف ہے ۔۔
اسے کہنا کہ وہ " صم بکم " ہو کر جی رہا ہے تیرا یوسف
میری خوش حالی میں بیتی ہوئی زِندگی لوٹانے کی التجا کرنا ۔۔
اپنی آخرت بنا لینے کی میری آخری التجا کرنا 
اسے کہنا مُجھے اپنی بیتی ہوئی فضاؤں میں جینا ہے
اسے کہنا دشنام درازوں کو مجھ سے اب حجاب نہیں آتے ۔
۔۔۔۔۔
اُسے کہنا تُجھے یاد کرکے تڑپتا ہے تیرا یوسف

اسے کہنا مجھے جدائیوں کے آداب نہیں آتے

No comments:

Post a Comment

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے