Friday, July 9, 2021

‎زندگی میں مصروف ہونا ‏


 میں اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہونا چاہتا ہوں
کہ جہاں مجھے اگر نیند بھی میسر نہ ہو تو
کوئی بات نہیں مگر میرا ذہن مصروف رہے
جہاں مجھے دنیا میں کسی انسان کی پرواہ نہ ہو -
میں اس قدر مصروف رہوں کہ میں لفظ اداسی بھول جاؤں اور اپنی ماں_بہن اور بھائیوں کو اتنا خوش رکھوں جتنی خوشی دوں کم ہو اور
 اپنے گھر سے نکلوں دوسروں سے کچھ سیکھوں جہاں مجھے رات کو زیادہ تھکاوٹ کی وجہ سے نیند آئے
تاکہ میں ماضی اور حال کا نہ سوچ سکوں
لوگ اس لیے مصروف رہنا چاہتے ہیں
کہ وہ لطف حاصل کریں یا پیسے کمائیں
یا کچھ بھی مگر میں اس لیے مصروف رہنا چاہتا ہوں
تاکہ سوچوں فکروں اور ڈیپریشن جیسے ذہنی امراض سے دور رہ سکوں اللہ مجھے اتنا مصروف کرے کہ مجھے کسی کی پرواہ نہ ہو یہاں تک کے اپنے آپ کی بھی نہیں 
 

✍️ یوسف عظیم خان

1 comment:

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

​ کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے